Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اعلان!!! نئی پیکنگ نیا نام فارمولہ،تاثیر اور شفاءیابی وہی پرانی۔ -- اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- تسبیح خانہ لاہور میں ہر ماہ بعد نماز فجر اسم اعظم کا دم اور آٹھ روحانی پیکیج، حلقہ کشف المحجوب، خدمت والو ں کا مذاکرہ، مراقبہ اور شفائیہ دُعا ہوتی ہے۔ روح اور روحانیت میں کمال پانے والے ضرور شامل ہوں۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

نفسیاتی گھریلوالجھنیں اور آزمودہ یقینی علاج

ماہنامہ عبقری - نومبر 2016ء

یورپ جانے کا شوق: میری عمر 32 سال ہے احساس کمتری بڑھتا جارہا ہے۔ مجھے بچپن سے یورپ جانے کا شوق تھا کیونکہ میرے رشتہ دار وہاں رہتے ہیں اور جب آتے جاتے ہیں تو ان کو دیکھ کر خود کو فضول خیال کرتا ہوں وہ ہر لحاظ سے مجھ سےا چھی زندگی گزار رہے ہیں۔ میں نے گریجویشن کیا ہے اور اب ابوظہبی میں مزدوری کررہا ہوں۔ گھر والے شادی کا کہہ رہے ہیں اور میں نے ٹھان لی ہے کہ صرف یورپی لڑکی سےشادی کروں گا۔ اگر گاؤں کی لڑکی کا ساتھ ملا تو ساری زندگی ڈیپریشن میں گزر جائے گی بہت پریشان ہوں اور میں کسی کو وضاحت سے کچھ نہیں بتا سکتا خودکشی کے خیالات آتےہیں۔ (ساجد‘ ابوظہبی)
مشورہ: اگر آپ کا ذہن اداسی‘ احساس کمتری‘ مایوسی‘ ناکامی‘ پژمردگی کی طرف مائل ہے تو دنیا کے کسی بھی حصے میں رہیں ڈیپریشن ہونے کا امکان بھی رہے گا۔ یورپی لڑکی سے شادی کرکے یورپ میں رہائش کی سہولت ضرور حاصل کی جاسکتی ہے لیکن ڈیپریشن سے بچنے کی ضمانت نہیں مل سکتی۔ کیونکہ اس وقت بھی آپ کے جملے ظاہر کررہے ہیں کہ کسی حد تک ڈیپریشن ہے۔ مثلاً خودکشی کے خیالات آنا معمولی بات نہیں ہے۔ پہلے ڈیپریشن سے نکلیں اس کے بعد شادی کیلئے بہتر فیصلہ کرنے کے قابل ہوں گے۔ اگر ماہر نفسیات سے ملاقات کرلیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اس طرح وہ ساری باتیں، خواہشات، آرزوئیں جو پریشانی کا سبب ہیں، ایک قابل اعتماد فرد کے سامنے وضاحت سے بیان کرنے کا موقع ملے گا اور اس کے بعد یقیناً آپ خود کو بہت بہترمحسوس کریں گے۔
نیند میں جھٹکا: میں نیند میں بولتا ہوں‘ نیند میں جھٹکا لگتا ہے‘ پڑھتے وقت خیالات ادھر اُدھر بھٹکتے ہیں۔ کبھی سوچتا ہوں بہت امیر ہوگیا ہوں‘ کوشش کرتا ہوں کہ کچھ ایسا ویسا نہ سوچوں‘ پھر بھی ذہن میں غیرحقیقی باتیں آجاتی ہیں۔ (عمر امین‘ سکھر)
مشورہ: نیند میں بولنے والے، چلنے والے، بے سکون رہنے والے لوگ عام طور پر جاگتے میں بھی بے سکون ہوتے ہیں۔ بیداری کے وقت کا اچھا استعمال، صحت مند سرگرمیاں، مذہب سےقربت، مثبت سوچ اور خیال، حقائق کا ادراک اور اس حوالےسے بہترین عمل نہ صرف زندگی کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے بلکہ شب و روز بھی سنور جاتے ہیں۔ جہاں تک نیند میں جھٹکا لگنے کی بات ہے تو واضح نہ ہوسکی۔ اگر صرف سوتے ہوئے ہلکی نیند میں چونک جاتے ہیں تب یہ کیفیت عام ہے اوراگر سوتے میں کئی جھٹکے لگتے ہیں اس وقت یہ حالت توجہ طلب ہوگی۔
مجھے گھبراہٹ ہوتی ہے: مجھے لوگوں میں گھبراہٹ ہوتی ہے۔ وقت کےساتھ تنہائی پسند ہوتا جارہا ہوں۔ بس اپنا گھر اور اپنا کمرہ ہی اچھا لگتا ہے‘ میری عمر 19 سال ہے۔ پرائیویٹ بی اے کررہا ہوں‘ لکھنے پڑھنے کیلئے مجھے ہر سہولت دستیاب ہے مگر پریشان کن خیالات آتے رہتے ہیں۔ رات کو جاگتاہوں، میرے دوست فیس بک کا زیادہ استعمال کرتے ہیں اور مجھے گیمز میں دلچسپی ہے۔ ویسے میں بالکل نارمل ہوں‘ ذہین بھی ہوں مگر لوگوں سے ملنے کیلئے اعتماد کی کمی پر پریشانی ہوتی ہے۔ (ج، لاہور)
مشورہ: کولمبیا یونیورسٹی کی میڈیکل یونیورسٹی کے تحت ہونے والی تحقیق سے اب یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ وہ ٹین ایج بچے جو رات کو دیر سے سوتے ہیں اور روزانہ 8 گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں‘ ڈیپریشن کا آسانی سے شکار ہوجاتے ہیں۔ تنہائی پسندی، گھبراہٹ، پریشان کن خیالات‘ ڈیپریشن کی ابتدا کو ظاہر کررہے ہیں۔ معمولات میں مضبوط ارادے کے ساتھ تبدیلی لائیں۔ اچھی صحبت کے ساتھ معاشرتی اور مجلسی زندگی میں ایسی طاقت ہے جو نوجوانوں کو تاریک کمروں سے باہر روشنی اور کھلی فضا میں خوشحال اور زندہ دلی کی طرف لے جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف حوصلہ بلند ہوتا ہے بلکہ خود اعتمادی میں اضافے کے ساتھ تعمیری خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ سب جاننے کے بعد آپ اپنے پاس ہونے والی ہر سہولت اور ذہانت سےاچھا فائدہ حاصل کریں گے۔
دماغ کام چھوڑ دیتا ہے: اکثر اوقات مجھے سیٹیاں سنائی دیتی ہیں۔ لگتا ہے یہ میرے سر میں بج رہی ہیں۔ ان کی آواز ایک سے دو منٹ تک آتی رہتی ہے کبھی اچانک سر اس طرح سُن ہوجاتا ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں؟ کہیں جارہا ہوں یا کوئی کام کررہا ہوں تو دماغ بھی کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ نظر کمزور ہے۔ (دانش‘ لاہور)
مشورہ: سر میں سیٹی کی آواز محسوس ہو‘ اس کے ساتھ سر سُن ہونے کی بھی شکایت رہے اور بھی شکایات ہوں جو آپ نے بیان کی ہیں تویہ سمجھ لینا چاہیے کہ اعصابی کمزوری یا بیماری کا امکان ہے۔ اس جانب غفلت نہ برتیں۔ یہ تمام شکایات کسی قسم کے دماغی دورے کی وجہ سے بھی ممکن ہیں۔ بعض دورے بغیر بے ہوشی اور بغیر جھٹکے لگے پڑتے ہیں۔ یہ کیفیت چند سیکنڈ یا چند منٹ کیلئے ہوتی ہے۔ اس دوران دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ ایسی حالت میں سکتے کی کیفیت بھی ہوجاتی ہے۔ تھوڑی دیر میں جب دورہ ختم ہوتا ہے تو انسان پہلے کی طرح حواس میں آجاتا ہے۔ اکثر لوگوں کو اس کیفیت کے بعد نیند بھی آتی ہے۔ نظر کمزور ہونے سے سر میں درد ہوتا ہے مگر سیٹیاں سنائی نہیں دیتیں۔
نشہ کرتا ہوں: جاگتے ہوئے ہوش و حواس میں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے اوپر پانی کی بوندیں گررہی ہیں لیکن وہ مجھے گیلا نہیں کررہیں۔ کبھی لگتا ہے آس پاس بچے کھیل رہے ہیں۔ کئی طرح کی چیزیں ہیں جن کو سونگھ کر نشہ کرتا ہوں۔ (محرم، راولپنڈی)
مشورہ: سونگھ کر کیا جانے والا نشہ کھا کر یا پی کر کرنے والے نشے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ ناک کے ذریعے وہ بہت تیزی سے دماغ تک پہنچ جاتا ہے۔ نشے کے عادی لوگوں کو ذہنی مریض کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ ان کا دماغ عام لوگوں کی طرح کام کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ رویہ بھی بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔ پانی یا بوندوں کا وجود نہیں لیکن یہ محسوس ہورہی ہیں‘ اسی طرح دوسری شکایت بھی ہے ان کے علاوہ بھی دیگر علامات مثلاً گھبراہٹ‘ بے خوابی‘ بے چینی‘ تشویش‘ خوف اورشدید غصہ بھی ظاہر ہوسکتا ہے۔ خود کو نفسیاتی امراض سے محفوظ رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ نشہ کبھی نہ کیا جائے۔ یہ کسی بھی احساس محرومی یا بے سکونی کا مداوا نہیں ہوتا۔ فوری طور پر نشے کی عادت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔آج کل تو تقریباً ہر علاقے میں ایسےسینٹرز کا قیام عمل میں آچکا ہے جیسا ایسے افراد کا علاج کیا جاتا ہے اور بہت سے لوگ اس موذی عادت سے چھٹکارا پاچکے ہیں۔
بلڈپریشر: ذرا سی بات پر میرا بلڈپریشر کم ہوجاتا ہے۔ یہی میری بیماری ہے اور اس کیلئے مجھے کوئی دوا نہیں ملی۔ حالانکہ یہ خطرناک بیماری ہے۔ (سلیم)
مشورہ: اکثر اوقات کمزوری کی وجہ سے بلڈپریشر کم ہوجاتا ہے‘ یہ کوئی خطرناک بیماری نہیں ہے۔ خون کا دباؤ کسی قدر کم ہونا فکر کی بات نہیں۔ یہ صرف اس وقت خطرناک ہوتا ہے جب کوئی مریض بے ہوشی میں بستر پر لیٹا ہو۔ اپنی صحت کا خیال رکھیں‘ اچھی غذا لیں‘ غیرضروری فکروں سے ذہن کو آزاد رکھیں۔ مجموعی صحت پر اچھا اثر ہوگا۔

Ubqari Magazine Rated 5 / 5 based on 238 reviews.